فارن فنڈنگ کیس:سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ حکمران جماعت کے لیے کیا مشکلات پیدا کر سکتی ہے؟ | بی بی سی اردو

مندرجہ ذیل ذکر 05 جنوری 2022 کو بی بی سی اردو میں درج ذیل لنک پر شائع ہوا۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-59877808


وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کے عطیات پر مشتمل حکمراں جماعت تحریک انصاف کی فنڈنگ کی پڑتال کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’دیگر دو بڑی جماعتوں ن لیگ اور پی پی کے مالیات کی اسی قسم کی پڑتال کے منتظر‘ ہیں۔

بدھ کو ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے نظمِ مال کو جتنا کھنگالا جائے گا اتنی ہی صراحت سےحقائق واضح ہوں گے اور قوم سمجھ سکے گی کہ کیسے تحریک انصاف ہی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کا نظمِ مال پولیٹیکل فنڈ ریزنگ کے اس مربوط نظام پر مشتمل ہے جس کی بنیادیں باضابطہ ڈونرز پر استوار ہیں۔‘

’اس سے قوم کو باضابطہ پولیٹیکل فنڈ ریزنگ اور قوم کی قیمت پر نوازشات کے بدلے سرمایہ دار حواریوں اور مفاد پرست گروہوں سے مال اینٹھنے کے مابین فرق سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اس کے فوراً بعد پاکستان مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز نے بھی ایک ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’اچھا؟ تو پھر سات سال سے دھونس اور طاقت کے ذریعےکیس کو چلنے کیوں نہیں دیا؟ کیوں اتنے سال فرار اختیار کرتے رہے اور پھر منتیں کرتے رہے کہ رپورٹ ریلیز نا کی جائے؟ پاگل سمجھ رکھا ہے لوگوں کو کہ جو بولو گے لوگ مان جائیں گے؟ تیاری رکھنا، حساب کتاب کا وقت آن پہنچا ہے! انشاءاللّہ!

منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکمران جماعت نے انتخابی ادارے سے 31 کروڑ سے زائد کی رقم خفیہ رکھی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے درجنوں اکاؤنٹ ظاہر ہی نہیں کیے گئے۔

تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا معاملہ گذشتہ روز سے زیر بحث ہے جہاں اپوزیشن کی جماعتیں ان پر بیرون ملک سے غیر قانونی عطیات حاصل کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے الزام لگایا ہے کہ تحریک انصاف نے اب تک ان اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ ’ان کمپنیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں دیا گیا جو پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘

ادھرگذشتہ روز وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کا اکاﺅنٹنگ اور فنڈنگ کا تفصیلی نظام موجود ہے۔

ایسے میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا اور پاکستان کی حکمراں جماعت کے لیے اس کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔

’بطور سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے‘

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹ اور غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس کے بعد اب الیکشن کمیشن اس پر جوڈیشل کارروائی شروع کرے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سنہ 2017 کا سیکشن 204 اس حوالے سے بڑا واضح ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی ادارہ، تنظیم یا شخصیت پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کو فنڈ فراہم نہیں کر سکتی۔

انھوں نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کی اس رپورٹ میں ان غیر ملکی اداروں اور ان شخصیات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کو فنڈ فراہم کیے۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ سنہ 2014 میں سامنے آیا تھا اور الیکشن کمیشن کے حکام کی طرف سے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیر کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ خود پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداروں نے بھی الیکشن کمیشن کی کارروائی کو رکوانے کے لیے مختلف ہائی کورٹس سے حکم امتناع بھی حاصل کیے۔

الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ہائی کورٹ کے جج جتنے اختیارات ہوتے ہیں اور الیکشن کمیشن اس پر عدالتی کارروائی کرنے کے بعد کروڑوں روپے کے ممنوعہ فنڈ، جس کی نشاندہی اس سکروٹنی کمیٹی نے کی ہے، ضبط کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے بھی پاکستان تحریک انصاف کی بطور سیاسی جماعت ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سنہ کے سیکشن 215 میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے کمیشن میں جمع کروائی گئی مالیاتی تفصیلات الیکشن ایکٹ کے سیکشن 210 سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو پھر الیکشن کمیشن اس جماعت کو الاٹ کیا گیا انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں اس جماعت کی رجسٹریشن بھی منسوخ تصور ہوگی اور اس جماعت کے انتخابی نشان پر جیت کر آنے والے ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت پر بھی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ چند وفاقی وزرا نے وزیر اعظم عمران خان کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن کو نتقید کا نشانہ بنانے پر ہی اکتفا کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کے خلاف ایک پوزیشن لیے ہوئے ہے۔

’الیکشن کمیشن کے پاس جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار ہے‘

پاکستان میں جمہوریت اور انتخابی معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ ایک بہت بڑا سنگ میل ہے اور مستقبل میں پاکستان کی سیاست پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں پرعزم دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے معاملے میں الیکشن کمیشن کھل کر سامنے آیا اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بعد ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کے لیے معاملہ متعلقہ کورٹس میں بھجوا دیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو بھی جلد نمٹانا چاہتا ہے۔

Follow ABM on Social Media

22,841FollowersFollow
6,700SubscribersSubscribe

Latest Articles

Latest Tweets