پاکستان، آٹھ معاونین خصوصی کی تقرری پر تنقید کا طوفان | DW

مندرجہ ذیل ذکر 14 ستمبر 2022 کو ڈی ڈبلیو میں مندرجہ ذیل لنک پر شائع ہوا۔

https://www.dw.com/ur/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%93%D9%B9%DA%BE-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%88%D9%86%DB%8C%D9%86-%D8%AE%D8%B5%D9%88%D8%B5%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D8%B1%D8%B1%DB%8C-%D9%BE%D8%B1-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%B7%D9%88%D9%81%D8%A7%D9%86/a-63118510

معاشی بدحالی سے نڈھال پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف نے آٹھ مزید معاونین خصوصی کا تقرر کر دیا ہے، جس پر تنقید کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

کئی حلقوں میں اس فیصلے کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اور اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا دعوی ہے کہ ان آٹھ معاونین خصوصی کے تقرر کے بعد وفاقی کابینہ کا حجم تقریبا 70 کے قریب ہو گیا ہے، جس میں چونتیس وزرا، سات وزیر مملکت، چار مشیر اور پچیس معاونین خصوصی شامل ہیں۔

نئے معاونین خصوصی میں رکن قومی اسمبلی افتخار احمد خان بابر، رکن قومی اسمبلی مہر ارشاد احمد خان، رکن قومی اسمبلی رضا ربانی کھر، رکن قومی اسمبلی مہیش کمار ملانی، پی پی پی کے رہنما فیصل کریم کنڈی، سردار سلیم حیدر، تسنیم احمد قریشی اور محمد علی شاہ شامل ہیں۔

تنقید کا طوفان

 پاکستان تحریک انصاف نے فوری طور پر ان تقرریوں پر اپنا ردعمل ظاہر کیا اور اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان آفریدی کا کہنا ہے کہ ملکی خزانے کو لوٹنے کے لیے مزید لوگوں کو شامل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ایک طرف شہباز شریف سرکاری خرچے پر ہیلی کاپٹر کے دورے کر رہے ہیں، جو صرف فوٹو سیشن کے لیے ہے اور دوسری طرف انہوں نے اپنے اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے معاونین خصوصی رکھ لیے ہیں، جس سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا۔‘‘

اقبال آفریدی کے مطابق یہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ملک پہلے ہی 136 بلین ڈالرز سے زائد کا مقروض ہے۔

انتہائی شرمناک ہے

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار خالد بھٹی کا کہنا ہے کہ کابینہ کے حجم کو ایک ایسے وقت میں بڑھایا گیا ہے جب سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پائی پائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”جنوبی پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں سیلاب متاثرین بھوک وافلاس اور دربدری کا شکار ہیں۔ وہ  بیماریوں سے مر رہے ہیں اور یہاں وفاقی کابینہ کے حجم کو بڑھایا جارہا ہے۔ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ معیشت کو دس سے تیس بلین ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔ تیس لاکھ ایکڑ سے زیادہ اراضی تباہ ہوگئی ہے۔ لاکھوں انسان کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں یہ تقرریاں انتہائی شرمناک ہیں۔‘‘

وزرا کی مراعات

 خالد بھٹی کے مطابق حکمران طبقہ کی اس دلیل میں کوئی طاقت نہیں کہ وزرا اگر منسٹر انکلیو میں سرکاری گھروں میں رہتے ہیں، تو وہ اس کے پیسے اپنی تنخواہ سے کٹوا دیتے ہیں۔ ”اس جگہ گھر ایک ایک دو دو کینال یا اس سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایسے گھر دس لاکھ سے بیس لاکھ کرائے پر ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا سفر مفت ہوتا ہے۔ علاج و معالجہ حکومت کرواتی ہے۔ پٹرول اور دوسری یوٹیلیٹیز پر بھی ان کو بہت رعایت دی جاتی ہے۔ تو ان کی مراعات پر بے تحاشہ پیسہ قومی خزانے سے خرچ ہوتا ہے، جو ان حالات میں سیلاب زدگان پر لگنا چاہیے۔‘‘

خرچے غیر معمولی نہیں ہیں

  تاہم حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر علی بلوچ کا کہنا ہے کہ وزرا پر ہونے والے اخراجات بہت معمولی ہیں اور ان کو قومی خزانے پر بوجھ  قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پاکستان 22 کروڑ سے زیادہ آبادی کا ملک ہے، جہاں پر لوگوں کے مسائل کی نوعیت مختلف اور ہرعلاقہ اور ہرصوبہ وفاقی کابینہ میں نمائندگی چاہتا ہے تاکہ اس علاقے کے مسائل حل ہو سکیں۔ موجودہ معاونین میں سے ایک بڑی تعداد ایسے ہی علاقوں کی ہے۔ یہ اتحادی حکومت ہے جس میں حکومت کے دوسرے اتحادیوں کو شراکت اقتدار کے تحت حصہ دینا پڑتا ہے لیکن اس کا مقصد صرف عوام کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔‘‘

غلط تصور

صابر علی بلوچ کے مطابق یہ معاونین سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے میں وزیر اعظم کی مدد کر سکتے ہیں۔ ”یہ تصور غلط ہے کہ اراکین اسمبلی یا وزرا پر بے تحاشا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ یہاں تک الزام لگا دیتے ہیں کہ وزرا حج اور عمرہ بھی سرکاری پیسے سے کرتے ہیں، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اسی طرح زیادہ تر بیرون ملک دوروں کے خرچے مہمان ممالک اٹھاتے ہیں۔‘‘

کابینہ کا حجم: آئین کیا کہتا ہے؟

کئی حلقوں کا یہ دعوی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی سطح پر کابینہ کا حجم اتنا بڑا نہیں ہو سکتا۔  تاہم قانون سازی، پارلیمانی امور اور سیاسی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ وفاقی کابینہ کا حجم بہت زیادہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ” آئین کی آرٹیکل بانوے کے مطابق وزرا اور وزیر مملکت کی تعداد اراکین پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد کا گیارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہماری پارلیمنٹ کی مجموعی تعداد 446 ہے۔ تو اس حوالے سے وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد اننچاس ہونی چاہیے۔‘‘

تاہم وزیراعظم معاونین خصوصی جتنے چاہے رکھ سکتے ہیں اس کی آئین میں کوئی حد نہیں ہے۔ وزیراعظم نہ صرف ان معاونین کا تقرر کر سکتے ہیں بلکہ ان کو وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ بھی دے سکتے ہیں۔

Follow ABM on Social Media

29,719FollowersFollow
24,900SubscribersSubscribe

Latest Articles

Latest Tweets

[custom-twitter-feeds]

ABOUT ME



PERSONAL INFO

Proficient and highly skilled in information technology with a broad background in project management, Digital marketing, Web Development, Graphic designing, Video Editing, IT security, Computer operations, Implementations, Network administration, End-user support, Troubleshooting, Hardware / Software. Improves processes to increase efficiencies. A dependable problem solver who seizes opportunities to improve upon existing operations to increase a business standing in the marketplace.

  • First Name: Syed M
  • Last Name: Bilal
  • Date of birth: 24 November 1990
  • Nationality: Pakistan
  • Phone: +923336874433
  • Address: Lahore, Pakistan
  • Email: bilalgilani240@gmail.com
  • Languages: English-Urdu-Arabic



Experience
IT & Digital merketing Officer - PILDAT

2023 - Continue

IT & Digital merketing Officer - Sapphire

2022 - 2023

IT Manager - Hajvery University

2021 - 2022

  • Maintain and update different websites under the use of PILDAT.
  • Manage and use e-mail marketing platforms like GoDaddy and Mail Chimp.
  • Troubleshoot various end-user computer issues.
  • Proficient in graphic designing using tools like Canva.
  • Skilled in video editing with Final Cut.
  • Implement YouTube SEO, social media marketing (SMM), thumbnail creation, optimization, and keyword research.
  • Troubleshoot network-related issues, including LAN, WAN, switches, routers, internet, broadband, and servers.
  • Oversee all Digital marketing campaigns in the company.
  • Implement the strategy to generate leads.
  • Promote the business, product, or service.
  • Ensure the company is communicating the right messaging to attract prospective customers and retain existing ones to generate leads.
  • Planning digital marketing campaigns, including web, SEO/SEM/SMM/PPC, email, social media, and display advertising.
  • Maintaining a social media presence across all digital channels.
  • Measuring and reporting on the performance of all digital marketing campaigns.
  • Provide technical support all over the company operations.
Education

Superior University

BS Computer Science (BSCS) - Superior University

2013 - 2017

Cisco Certified Network Associate (CCNA) - Corvit

2016

Fundamentals of Digital Marketing - Google

2023

Skills
  • WEB DEVELOPMENT
    ★★★★☆
  • DIGITAL MARKETING
    ★★★★★
  • SEO,SEM,SMM,PPC
    ★★★★★
  • WORDPRESS
    ★★★★☆
  • GRAPHIC DESIGNING
    ★★★★★
  • VIDEO EDITING
    ★★★★★
  • NETWORKING
    ★★★★★
  • TROUBLESHOOTINGS
    ★★★★★
  • TECHNICAL SUPPORT
    ★★★★★
  • C++ / C#
    ★★★☆☆

4+

Years Experience

89+

Done Projects

30+

Happy Customers

This will close in 0 seconds

GET IN TOUCH



Phone

+923336874433

bilalgilani240@gmail.com

Snapchat

bilalgilani240

Address

Lahore, Pakistan

Social Profiles
Feel free to drop me a line

If you have any suggestion, project or even you want to say Hello.. please fill out the form below and I will reply you shortly.

Contact Form Demo

This will close in 0 seconds

MY PORTFOLIO



WEB DEVELOPMENT



YOUTUBE THUMBNAILS



Image 1
Image 2
Image 3
Image 4

SOCIAL MANAGEMENT



Image 01
Image 02
Image 3
Image 04

SOCIAL POSTS






This will close in 0 seconds